آستان نیوز کے مطابق آستان قدس رضوی کے ادارہ نوادرات اور ثقافتی میوزیم کے سربراہ عبدالحسین ملک جعفریان نے ہمارے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گنجینہ نجوم، نوجوان نسل کے لئے رضوی میوزیم کے جذاب گنجینوں میں شمارہوتاہے ۔ یہ نوادرات ایران کے ماہر علم نجوم ڈاکٹر سید جلال الدین تہرانی نے آستان قدس رضوی کو ہدیہ کئے تھے ۔
عبدالحسین ملک جعفریان نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ آسمانی گلوبس اور ٹیلی اسکوپ رضوی میوزیم کے شعبہ نجوم کے گرانقدر نوادارت میں شمار ہوتے ہیں ۔ آسمانی گلوب ایک فرضی گلوب ہےجو تمام سماوی اجرام کو شامل ہے اور اس کا مرکز بھی زمین یا مکان ناظر ہے ۔
برطانیہ کا بنا ہوا آسمانی گلوب
.ملک جعفریان نے کہا کہ رضوی میوزیم میں موجود آثار میں برطانیہ کے بنے ہوئے آسمانی گلوب کا نام لیا جاسکتا ہے جو 1857 میں بنایا گیا تھا
اس گلوب کی اونچائي 36 سینٹی میٹر اور قطر 23 سینٹی میٹر ہے اس کو نیوٹن اینڈ کمپنی میں لکڑی اور کاغذ سے بنایا گيا ہے ۔
آستان قدس رضوی کے ادارہ نوادرات اور ثقافتی میوزیم کے سربراہ عبدالحسین ملک جعفریان نے کہا کہ اسی طرح کا ایک اور آسمانی گلوب جو 1860 میں برطانیہ میں ایڈورڈ اسٹنفورڈ کے ہاتھوں بنایا گیا رضوی میوزیم کے قیمتی نوادرات میں شمار ہوتا ہے
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اہل تاریخ اور ثقافت آستان قدس رضوی کے میوزیم کی سائٹ پر https://digimuseum.razavi.irايڈرس پر جاکر دیکھ سکتے ہیں اور اس میوزیم کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔